نئی دہلی، 17/فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ڈاک خانوں کے ذریعے پاسپورٹ سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی منصوبہ بندی کاپہلا مرحلہ31/مارچ سے پہلے ہی شروع ہو جائے گا۔وزیر خارجہ سشما سوراج نے ٹوئٹ کرکے یہ معلومات دیں۔سشماسوراج نے ٹوئٹ کیا، پوسٹ آفس پاسپورٹ سروس سینٹر کو کوٹہ، جیسلمیر، بیکانیر، جھنجھنو اور جھالواڑ جیسے مختلف مقامات میں شروع کیا جائے گا۔ایک دوسرے ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا، یہ ہماری کوشش ہے کہ پوسٹ آفس پاسپورٹ سروس سینٹر جن کا اعلان پہلے مرحلے میں کیا گیا تھا، وہ 31/مارچ سے پہلے ہی شروع ہو جائیں۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے نئے کھولے گئے ان مراکز کی فہرست بھی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پرپوسٹ کی۔انہوں نے لکھاکہ ہم اس مرحلے میں راو رکیلا، سمبل پور اور کوراپٹ میں بھی مراکز کھولنے جا رہے ہیں۔آگرہ کے بارے میں پوچھے جانے پرانہوں نے کہاکہ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کی وجہ سے میں آگرہ کے بارے میں جواب نہیں دے سکتی۔غورطلب ہے کہ حکومت نے کچھ وقت پہلے ہی پاسپورٹ بنوانے کے قوانین میں بڑی تبدیلی کی تھی۔نئے قوانین میں پیدائش سرٹیفکیٹ، شادی سرٹیفکیٹ اورماں یاباپ یاپھر قانونی سرپرستوں کے ذکر کے بارے میں کئی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔اس سے پہلے جن کے پاس برتھ سرٹیفکیٹ نہیں ہوتے تھے، ان کو مجسٹریٹ سے سرٹیفکیٹ لیناہوتاتھالیکن اب آدھارکارڈمیں درج تاریخ پیدائش کومنظوری دے دی گئی ہے۔آدھار کارڈ کے علاوہ ڈرائیونگ لائسنس،پن کارڈ،اسکول سرٹیفکیٹ یا پھر ووٹر شناختی کارڈ کو بھی تاریخ پیدائش کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔